کالم نگار ۔میر آفاق ظفر

مضمون ——لفظ مرد
تحریر
میر آفاق ظفر

لفظ مرد ایک ایسی ذمہ داری کا نام ہے،جس کو گھر کی تمام ذمہ داریاں ادا کرنی پڑتی ہے ۔ اس سب کے باوجود بھی آج بھی ہمارا یہ معاشرہ مرد کو ایک بری نگاہ سے دیکھتا ہے۔ آج ٹی وی اور انٹر نیٹ کے بہت سے ڈراموں اور پروگراموں میں مرد کو ایک ظالم کے روپ میں دکھایا جاتا ہے،کہ مرد ظالم ہے ، مرد مارتا پیٹتا ہے ۔

میرا ان سب سے ایک سوال ہے ؟ جو اس قسم کے ڈرامے اور فلمیں بناتے ہیں کہ کیا سب مرد پاگل ہوتے ہیں ؟ آج تک اس سوال کا جواب ان کے پاس موجود نہیں ہے ۔ جو اس قسم کے ڈرامے و دیگر سوشل میڈیا سب دیکھ رہے ہیں۔اگر دیکھا جائے ، تو ایک مرد دن رات جو محنت کرتا ہے، وہ ایک عورت کے لیے ہی کرتا ہے ۔ جب ایک مرد جوان ہوجاتا ہے ، تو اس کے اوپر سب سے پہلے گھر کی ذمہ داری آجاتی ہے ۔ اس کے بعد جب اس کو نوکری مل جاتی ہے ،

تو اس کے اوپر ماں اور بہنوں کی ذمہ داری آجاتی ہے ۔ جب ایک مرد اس سب ذمہ داریوں سے دستبردار ہو ہی جاتا ہے ۔ تو اس کی شادی ہو جاتی ہے ۔ پھر اس کے بعد وہ ساری عمر اس خاتون کی سکون اور آرام کے لئے محنت کرتا ہے ، اور جب اس کے گھر بیٹی کی پیدائش ہوجاتی ہے ۔ تو یہ مرد اس دن سے ہی اس کی تعلیم اور شادی کی سوچ میں پڑ جاتا ہے ۔ ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرتے کرتے وہ اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے ۔

آخری میں ، میں صرف یہ کہنا چاہونگا کہ ایک مرد ان تمام ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے باوجود بھی ظالم کہلاتا ہے ،
” تو میں ایک ظالم ہوں ” ۔

قارئین کرام ! میں اپنے اس دلچسپ موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک بات کو شامل کرنا چاہونگا۔ کہ ایک مرد جو ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہیں۔ اس کے باوجود بھی آج کے معاشرے کی عورت ایک مرد سے وفا کا گلہ کرتی ہے ۔ اس میں ، میں صرف یہ کہنا پسند کروں گا ۔ کہ ایک مرد کو اسلام نے چار شادیاں کرنے کا حکم دیا ہے ۔

لیکن وہ مرد پھر بھی اس گلہ کرنے والی عورت کے ساتھ اپنی ساری عمر گزر لیتا ہے ۔ یہ سب کرنے کے باوجود بھی ایک عورت اپنی ساری عمر ایک مرد کو ظالم کہتے ہوئے گزارتی ہیں ۔

دراصل مجھے افسوس ان مردوں پر ہوتا ہے ۔ جو چند پیسوں کے لیے مردوں کو بدنام کرلیتے ہیں ۔ اسلام میں مرد کو عورت کا سربراہ بنایا ہے ۔ اگر اس حوالے سے ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالے،تو خصوصاً ہمارا معاشرہ ایک پدرسری معاشرے کہلاتا ہے ۔ اس کے باوجود بھی یہ سب کچھ ہمارے معاشرے میں عام ہے ۔

قارئین کرام ! میں اپنے اس موضوع میں چند تکلیف دہ لحمیات کا بھی ذکر کرنا چاہوں گا۔ جو ایک مرد اپنی اس مختصر سی زندگی میں سہتا ہے ۔ ایک مرد کے اوپر ایک ایسا بھی وقت آجاتا ہے ۔ جب وہ اندر سے مکمل ٹوٹ جاتے ہیں ، اور اندر ہی اندر میں ہار تسلیم کر لیتا ہے ۔ ان تمام تکلیفوں سے گزرنے کے باوجود بھی ایک مرد کبھی بھی اپنے آنکھوں سے آنسوں نہیں نکلتا ہیں ۔

کیونکہ اس کو پتہ ہوتا ہے ۔ کہ اس کے رونے اور ہار ماننے سے گھر کے سب کا مان ٹوٹ جائے گا ۔ میرے نزدیک یہاں پر ایک تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ایک مرد ان تمام تکلیفوں سے گزرنے کے باوجود بھی ان تکلیفوں کو دوسرے کے ساتھ بانٹ بھی نہیں سکتا ۔ وہ اندر ہی اندر میں ان تکلیفوں سے لڑتا رہتا ہے ، اور ان کو حل کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی اقدام تلاش کرنے میں مصروف رہتا ہے ۔

میں اپنے اس دلچسپ موضوع میں چند ایسے مشہور محاوروں کا ذکر کرنا چاہونگا ۔ کہ جن کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے ۔ لیکن پھر بھی یہ ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا جو محاورہ ہے ، وہ یہ ہے ۔ کہ مرد کبھی رویا نہیں کرتے ہیں ۔ میں ان لوگوں سے ایک سوال کرنے چاہتا ہوں۔ جو اس قسم کے بےبنیاد باتیں کرتے ہے ؟ کیا مرد کا دل نہیں ہوتا ہے ؟ کیا مرد کو کوئی دکھ اور پریشانی نہیں ہوتی ہے ؟ اسی وجہ سے آج ہمارے معاشرے کے 85 فیصد مرد باتھرُوم میں جاکر چھپ کے روتے ہیں۔ اگر یہ سب تکلیفیں سہنے کے بعد بھی ہمارے معاشرے میں ایک مرد کو ظالم کے روپ میں دیکھایا جاتا ہے۔ تو ایسے لوگوں کو ایک قطرہ پانی میں ڈوب کر مرجانا چاہیے۔ جو قسم کے حرکتیں کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایک اور بات بڑی ہی مشہور ہے کہ مرد کبھی بھی اپنا دکھ کسی سے بھٹے نہیں کرتے ہیں ۔

لیکن میں نے تو آج تک یہ سنا تھا ۔ کہ دکھ اور پریشانی بٹانے سے کم ہوتی ہے ۔ آج ایسے بےبنیاد باتوں کی وجہ ہر لڑکا اپنے دکھ اور اپنی پریشانی بانٹنے سے ڈرتا ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج ہر دوسرا لڑکا پریشانی کا شکار ہو چکا ہے ۔ اس لئے ہمیں اس قسم کے بےبنیاد اور قدیم روایات کو اپنے معاشرے سے ختم کرنا چاہیے ۔
قارئین کرام! میں اپنے اس موضوع میں چند اور باتیں شامل کرنا چاہونگا ، جو ہمارے معاشرے میں عام ہے ۔ آج ہمارے معاشرے میں تقریباً سارے والدین اپنے بچوں کو دوسروں کے سامنے باعزت اور ذلیل کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ جب بچے خود سے خودمختار ہوجاتا ہے ۔ تو وہ اپنے والدین کو چھوڑ کر چلے جاتا ہے ۔ یہ ایک فطری عمل ہے ۔ لیکن جب کوئی بچہ اس طرح اپنے والدین کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے ۔ تو والدین اس کے الزام اس کی بیوی کے اوپر ڈال دیتے ہیں ۔ یہ سراسر غلط بات ہے ۔ اس لئے والدین کو اپنے بچوں کو سب کے سامنے باعزت اور زلیل کرنے کے بجائے ، ان سے نرمی اور شفقت کے ساتھ بات کرنی چاہیے ۔ بعض ایسے بھی والدین ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں ۔ جو اپنے بچوں کے قصے باہر کے لوگوں سے کرتے ہیں ۔

اس میں ، میں صرف یہ کہنا چاہونگا ، کہ ایسی حرکتوں سے بچے کبھی بھی نہیں سدھرتے ، بلکہ ایسی حرکتوں سے بچے اور زیادہ بگڑتے ہیں ۔ اس لئے والدین کو اپنے بچوں کو پیار اور محبت کے ساتھ سمجھانا چاہیے ۔
قارئین کرام ! میں اپنے اس موضوع پر کچھ اور تکلیف دہ حقائق بیان کرنا چاہونگا جو ایک لڑکا اپنی اس محتصر سی زندگی میں سہتا ہے ۔ ایک لڑکا جو اپنی ساری زندگی سب کی خدمت کرنے میں گزارتا ہے،اور جب اس کو کسی کی ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے،تو سب اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں،جب کبھی کوئی لڑکا اپنی کوئی خواہش ظاہر کرتا ہے ۔ تو سب لوگ اس کی مخالفت میں کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اتنی تکلیفیں سہنے کے باوجود بھی ایک لڑکےکو ہمارا یہ معاشرہ ظالم کہتے ہیں۔ تو میں پھر سے یہ کہنا چاہونگا کہ
“میں ایک ظالم ہوں”

میں اپنے اس موضوع کے ، آخر میں صرف یہ کہنا پسند کرنا چاہونگا ، کہ ایک لڑکا جو ان سب تکلیفوں کو سہنے کے باوجود بھی ، سب کی خدمت کرتا ہے ۔ اور کبھی بھی اپنے ان تکلیفوں کو کسی کے سامنے ظاہر بھی نہیں کرتے ہیں۔
اگر ان سب کے باوجود بھی ایک مرد ظالم کہلاتا ہے ۔
” تو میں ظالم ہوں ”

اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے بتائے ہوئے راستے میں چلانے کی توفیق عطا فرمائے ۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو !

شئیر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں