امریکی صدر جو اور چینی صدرشی کی فاٸل تصویر

‘شی’ کی ‘جو’ سے یوکرین جنگ کو ختم کرانے کی اپیل، جواب میں ملی دھمکی

چین کے صدر شی جنپنگ نے اپنے امریکی ہم منصب جو بائیڈن سے کہا ہے کہ یوکرین میں جاری جنگ کو جلد سے جلد ختم ہونا چاہیئے۔

 

 

شین ہوا کے مطابق، جعمہ کو شی جنپنگ نے قریب دو گھنٹے بائیڈن سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے گفتگو کی جس میں انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور اسکے نیٹو اتحادیوں کو ماسکو کے ساتھ گفتکو کرنی چاہیئے تاکہ یوکرین بحران کا معما حل ہو اور ساتھ ہی یوکرین اور روس کے سکورٹی خدشات بھی دور ہوں۔

 

 

‘شی’ نے ‘جو’ سے کہا کہ تنازعہ اور ٹکراو کسی کے مفاد میں نہیں ہے، دنیا نہ تو پر امن اور نہ پرسکون ہے، یوکرین بحران وہ نہیں ہے جو ہم چاہتے ہیں۔

 

سوئس بینک ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ پاکستان کی 97 ارب ڈالر کی رقم سوئس بینک میں پڑی ہیں جو 30 سال کیلئے ٹیکس فری بجٹ کیلئے کافی ہیں

 

چینی صدر نے مزید کہا: ”گفتگو جاری رکھنا، عوام کے جانی نقصان سے بچنا، انسانی بحران کو روکنا، لڑائی کو روکنا اور جنگ کو جلد از جلد ختم کرانا، ہماری ترجیح ہونا چاہیئے۔“

 

 

شی جنپنگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ واشنگٹن اور بیجنگ کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کا بوچھ اٹھانا چاہیئے کیونکہ امن و سلامتی بین الاقوامی برادری کا سب سے اہم سرمایہ ہے۔

 

 

ادھر وائٹ ہاؤس سے دونوں لیڈروں کی باتوں کے سلسلے میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر بائیڈن نے شی جنپنگ سے گفتکو میں بیجنگ کی طرف سے روس کو کسی بھی طرح کی مادی امداد نہ ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر بیجنگ نے ایسا کیا تو اس کے نتائج اسے بھگتنا پڑیں گے۔

 

وائٹ ہاؤس سے جمعہ کو جاری بیان کے مطابق، صدر بائیڈن نے حملے کو روکنے کی کوشش کی تفصیل بیان کی اور روس پر پابندیان لگاکر حملے کا جواب دیا ہے۔

مزید پڑھیے ۔

ریاض ۔ ’ایران ہمیشہ سے ہمارا پڑوسی ہے، ہم ان سے جان چھڑا سکتے ہیں نہ ہی وہ ہم سے جان چھڑا سکتے ہیں‘۔ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے ہم ’اچھے حالات تک پہنچ سکیں گے اور خطے کی سنی اور شیعہ طاقتوں کے لیے بہتر مستقبل بناسکیں

 

 

وائٹ ہاؤ‎س سے جاری بیان میں اس بات کا ذکر ہے کہ بائیڈن نےبیجنگ کو ماسکو کی مادی مدد کرنے کا انجام بھگتنے کی دھکی دی لیکن اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ وہ اپنی دھمکی کو کس شکل میں عملی جامہ پہنائیں گے

شئیر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں