وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور روسی صدر پیوٹین کی ملاقات
سید اسد اللہ غازی کالم نگار /صحافی ایڈیٹر اینڈ چیف ہنزہ آن لاٸن نیوز نیٹ ورک
سید اسد اللہ غازی

تحریر سیداسد اللہ غازی۔۔

 

 

 

 

 

 

 

مغربی اشاروں پے سفارت کاری قصہ ماضی ۔۔۔۔ 👂
ہم گبرانے والوں میں سے نہیں ہم جو چاہتے ہیں وہی کرینگے۔۔

 

وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان کا دور روس اور اسی دن یوکراٸن اور روس کا تنازعہ پس منظر 

✅دوست اور دشمن کا فیصلہ ہم خود کرینگے۔۔۔ 
عمران خان کے دورہ روس 🚀پے کچھ کی چیخیں نکلی😩 تو کہیں شابا ش عمران خان ۔۔۔💪

✒پڑھے ۔ غازی کی قلم سے  ۔۔ 

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کادورہ روس پے پاکستان میں کچھ مغربی آقاوں کی خوشنودی کے کے لیے حدف تنقید بناتے ہیں۔ درحقیقت وزیر اعظم پاکستان کا دورہ روس طے تھا ۔ ✈ پاکستان کو یہ حق ہے کہ وہ دنیا کے ہر ملک سے سفارت کاری کریں ۔ اگر وزیر اعظم یہ دورہ متلوی کرتا تو پھر کہتے کہ فلان آقا کی دبا و میں آکر دورہ ملتوی کیا ۔

 

 

 

سب پہلے امریکہ وزرات خارجہ کے ترجمان نے آج پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان ہمارا اہم اتحادی ہے اور ہم مسلسل رابطے میں ہیں ۔ روس یوکراٸن معاملے میں بات ہوٸی ہے ۔

 

اور پاکستان اس مسلے پے اہم کردا ر ادا کر رہا ہے اور انہوں نے روس کے ساتھ پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔ اگر پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان کے حریفوں سے قطع تعلق کریں۔ جیسے امریکہ اور چین کے درمیان بھی تعلقات مثالی نہیں ہے ۔اور اسراٸیل امریکہ اہم اتحادی ہے ۔

 

 

اور اسراٸیل کے چین کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں ۔ اور پاکستان چین کا اٸیرن برادر ہے جبکہ اسراٸیل اور پاکستان کے درمیان کوٸی سفارتی تعلق ہی نہیں ہے ۔ روس کے ساتھ پاکستان کے بہت سے اہم ایم او یوز ساٸن ہونے والے ہیں جیسے ون بلٹ ون روڈ پاکستان سنٹر ایشیا گیس پاٸپ لاٸن اور پاکستان کو مشرق بعید کے مارکیٹ تک رساٸی کو یورپی منڈی سے زیادہ نفع بخش ہوگا۔

 

یہ بھی پڑھیے ۔

تبدیل دنیا کو نظر آرہی ہے ۔ اس لیےپاکستان کے بارے نظریے تبدیل ہورہے ۔ تبدیلی اپوزیشن کو بھی نظر آرہی ہے مگر عوام کی آنکھوں میں دھول جونکنے کی ناکام کوشش میں ہیں

 

 

روس کو مغربی دنیا معاشی باٸیکا ٹ کا دھمکی دے رہے ہیں جبکہ روس یوکراٸن کی حمایت کرنے والے ممالک کو تاریخی سزا دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ان ممالک کا آپسی مسلہ ہے۔ اور پاکستان یقینا اس سلسلے میں سفارت کاری بھی کر رہے ہیں۔ یہ بات ثابت ہے کہ عمران خان دلیر ہیں اور ثابت قدم ہیں جو فیصلہ کرتے ہیں وہ اس پے عمل کرتے ہیں۔ روس کے صد ر ولادٸمین پیوٹین گزشتہ دو سال سے کسی بھی بین الاقوامی سربراہ سے مصافہ نہیں کرتے تھے اور دوران ملاقات درمیان میں ایک لمبا ٹیبل رکھتے تھے ۔

 

 

 

جبکہ روسی صدر پیو ٹین نے  عمران خان سے ون ٹو ون ملاقات کی ۔ اور برپور پروٹوکول دیا ۔ عمران خان نے ماضی کے برخلاف مغربی آقاوں کی ہر کہی بات پے من و عن عمل پیرا ہونے کے بجاٸے ملکی مفاد میں اپنی مرضی سے سفارت کاری کر رہے ہیں۔ اور ماضی کو ماضی میں دفن کرنے کی نیا روایت قاٸم کیا اس وجہ سے مغربی آقاوں کے ٹکڑوں پے پلنے والوں کی چیخیں نکلیں ہیں ۔

 

چترال ۔ ضلع اپر چترال میں قاقلشٹ کے برف پوش وسیع میدان میں دو روزہ سرمائی کھیلوں کا ٹورنمنٹ کا آغاز 

 

 

جبکہ اہم اتحادی امریکہ پر امید ہے کہ عمران خان جو کہ جنگ کے سخت مخالف ہیں اور مزاکرات ان کی پہلی ترجیعی ہے اور روسی صد ر پٹین کو قاٸل کرنے میں کامیاب ہونگے ۔ پاکستان میں اپوزیشن جماعتیں عمران خان کے خلاف یکجا ہیں اور تحریک عدم اعتماد کے اڈی چوٹی کا زو لگا رہے ہیں ۔

 

 

مگر عمران خان گبرانے والوں میں سے نہیں ہیں۔ مغربی دنیا روس کے خلاف بیان بازی میں مصروف ہیں ایسے عمران خان نے روس کا دورہ کیا اور دنیا بھر کا میڈیا اس اہم دورے کو بت پور کوریج دے رہا ہے ۔ دنیا کے سارے بڑے بڑ ے میڈیا ہاوسس اس دورے پے ٹالک شوز کررہے ہیں اور ہر کوٸی اس پے تجزیہ کر رہا ہے ۔

 

 

عمران خان کے اقوام متحدہ جو پہلی تقریر کی تھی اس وقت بھی عالمی میڈیا میں عمران خان سرخیوں میں تھے اور دن بھر عمران خان سرخیوں میں رہا جن ممالک کے باسیوں کو پاکستان کے نام کا پتہ بھی نہیں تھا آج عمران خان اور پاکستان کے بارے میں ان کو پتہ چلا ۔ عمران خان روس کے ساتھ آپسی اور پاک چین اور سنٹر ایشا ٸی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو استوار کرنے کے ساتھ ساتھ روس اور یوکراٸن تنازعے پے بھی بات کرینگے ۔ یوکراٸن یو ایس ایس آر کا حصہ رہا ہے ۔

 

 

یو ایس ایس آر کے ٹوٹنے کے بعد یوکراٸن کے مغربی ممالک کے ساتھ زیادہ تعلقات بنے جبکہ یوکراٸن میں مختلف اسٹیٹس روس کے حامی اور انہوں نے یوکراٸن سے آزادی کا اعلان کیا تو روس نے ان ممالک کو تسلیم کیا ۔ یوکراٸن کے سکورٹی فورس نے ان علاقوں میں اپریشن شروع کیا تو روس نے ان علہدگی پسند گروپوں کی حمایت میں اپریشن لانچ کیا ۔

 

 

آج اقوام متحد ہ سیکرٹری جنرل نے روس کے صدر پیوٹین کو براٸے راست مخاطب کرتے ہوٸے مزاکرات کی دعوت دی اور جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ یورپی یونین نے روس کے خلاف فورس نا بینجنے اور صرف اخلاقی یا معاشی باٸیکا ٹ کا اعلان کیا ہے جبکہ چینی وزارت خارجہ نے روس یو کراٸن تنازعے پے بات کرتے ہوٸے سارا قصور امریکہ پے ڈالتے ہوٸے کہا کہ امریکہ اس تنازعے کو ہوا دے رہا ہے اور یوکراٸن کو ہتھیار دیکر جلتی پے تیل چھڈکا ہے ۔ پاکستان کے کچھ تجزیہ نگار اور سابق سفارتکا اس دورے کو معمول کا دورہ کہہ رہے ہیں ۔

 

 

اور اس ہی دن یوکراٸن پے روس کی چڑھاٸی ان کے آپسی تنازعہ سمجھتے ہیں تو کچھ تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ ہم امریکہ کے اہم اتحادی ملک ہیں ان کی ناراضی مہنگی پڑ ھ سکتی ہے بلخصوص ایف اے ٹی کی تلوار کے نیچھے وزیر اعظم کا یہ دورہ زہر قاتل ہو سکتا ہے ۔

 

 

 

شئیر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں