پامیر ٹاٸمز (دنیا جہاں کی خبر ایک کلک پر

 

*عوام کا سوال ہر ممبران پارلیمنٹ اور منتخب ممبران سے ؟ 

*کیا ہمارا ملک پاکستان ایک غریب ملک ھے ۔۔؟؟*

 

سوئس بینک ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ پاکستان کی 97 ارب ڈالر کی رقم سوئس بینک میں پڑی ہیں جو 30 سال کیلئے ٹیکس فری بجٹ کیلئے کافی ہیں۔ اس رقم سے 6 کروڑ پاکستانیوں کو جاب دی جاسکتی ھے۔ ملک کے کسی بھی کونے سے اسلام آباد تک 4 لائنوں پر مشتمل سڑکوں کا جال بجھایا جاسکتا ھے۔ 500 سے زائد پاور پروجیکٹ بنائے جاسکتے ہیں جن سے ہمیشہ کیلئے بجلی فری ہوسکتی ھے۔ ہر پاکستانی ماہوار 20 ہزار روپے 60 سال تک لے سکتا ھے ان سوئس بینک میں پاکستانی قومی خذانے کی دولت کی حصولی کے بعد ہمیشہ کیلئے ورلڈ بینک ایشیاء بینک آئی ایم ایف سے قرض سے چھٹکارا نصیب ہوسکتا ھے۔

 

 

پاکستان کا ہر وہ طبقہ جو اس ریاستِ پاکستان میں اختیارات طاقت کا حامل ھے اس میں ننانوے فیصد نے اپنی ناجائز دولت کو سوئس بینکس میں دولت جمع کرائی ھے۔

 

 

یہی اشرفیہ اور کرپٹ وزرا اپنے عیب کو چھپانے کیلئے ہر نت نئے طریقہ سے بولنے لکھنے کہنے پر قدغن لگا رھے ہیں۔ تعجب ھے ایماندار اور سچے لوگ تنقید سے گھبراتے نہیں ہاں اپنی کوتاہی اور غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معافی کے طلبگار ھوتے ہیں اور غلطیوں کے ازالہ کرتے ہیں۔!!

 

یہ خبر بھی پڑھیے ۔

 

کراچی ۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل کی زیر صدارت گورنر ہاوس میں پاکستان سٹیزن پورٹل کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی حکومت کے محکموں کی کارکردگی کا جائزہ

 

دھونس دھمکی یا جبر سے کام نہیں لیتے یہی لوگ عوامی لوگ کہلاتےہیں۔۔۔!!
*جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی*

 

 

شئیر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں