منیر جوہر کالم نگا ر

*تحریر*
*منیر جوہر*

*خسرہ اور روبیلا کیا ہے،بچے کو کیسے بچایا جاسکتا ہے*

حکومت گلگت-بلتستان کی جانب سے خطے کے تمام اضلاع میں خسرہ اور روبیلا کی بیماری سے بچاؤ کی قومی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے۔یہ مہم 12 روزہ ہے جو کہ 15 نومبر سے 27 نومبر تک جاری رہے گی۔

 

 

اس قومی مہم میں 9 ماہ سے لیکر 15 سال تک کے تمام عمر کے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جائیں گے۔
قارئین کرام کو خسرہ اور روبیلا کے حوالے سے آگہی کا ہونا ازحد ضروری ہے۔

 

خسرہ کے حوالے سے طبی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ایک بچے سے دوسرے بچوں میں پھیلنے والی خطرناک بیماری ہے،جس کی علامات یہ ہیں کہ بچے کو سب سے پہلے بخار ہوتا ہے،پھر جسم کے اوپر دھبے نمودار ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ آنکھیں سرخ ہونے اور زکام کا لگنا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

 

اس مرض کی بروقت تشخیص اور علاج کا نہ ہونے سے بچہ اپنی زندگی کی بازی بھی ہار جاتا ہے۔طبی ماہرین اس مرض کی ایک اور اہم وجہ غذائی کمی کو بھی قرار دیتے ہیں۔خسرہ سے بچے کے دماغی نشوونما پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

 

 

اس مرض کا شکار بچہ قوت گویائی،بصارت اور سماعت سے بھی محروم ہوسکتا ہے۔

 

روبیلا کے علامات کے حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری بھی خسرہ کی ہی ایک قسم ہے،یہ بھی ایک موذی مرض ہے۔

 

اس کے علامات میں بچے میں درمیانے درجے کا بخار کا رہنا،گلے کا خراب ہونا،اور سب سے پہلے چہرے پر دھبوں کا نکلنا،پھر آہستہ آہستہ پیٹ،کمر اور ٹانگوں تک ان دھبوں کا پھیلنا شامل ہیں۔

 

طبی ماہرین 5 سال کے عمر سے بڑے بچوں میں روبیلا کی علامات کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ ان بچوں میں سر کا درد رہنا،انکھوں میں پیلاہٹ کے ساتھ ساتھ جسم میں کمزوری محسوس کرنا ہوتاہے۔

 

 

یہاں طب سے وابستہ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ سر کے نچلے حصے اور گردن سے اوپری حصے میں ہر انسان میں ایسے غدود ہوتے ہیں جو عموماً ظاہر نہیں ہوتے اور نہ ہی محسوس ہوتے ہیں روبیلا کے مرض میں مبتلا بچوں میں ان غدود کا حجم قدرے بڑھ جاتا ہے اور محسوس بھی ہوتے ہیں۔خسرہ اور روبیلا کی بروقت علاج نہ ہونے سے یہ امراض نمونیا میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور مرض مزید پیچیدگی کی جانب بڑھ سکتی ہے۔

 

 

روبیلا کا انکیوبیشن پیریڈ 8 سے 10 ہفتوں پر مشتمل ہوتا ہے اس دورانئے کے اندر یہ علامات نمودار ہوسکتے ہیں۔والدین کو چاہیئے کہ ان علامات کے ظاہر ہونے پر قطعی طور پر نظر انداز نہیں کرنی چائیے تاکہ بچے کا صحیح طریقے سے علاج معالجہ ہوسکے۔

 

 

دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہو اور وہ روبیلا کا شکار ہو بچے کو پیدائشی طور پر معذور ہونے کے خدشے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،جس کی وجہ سے بچے کا دماغی نشونما بھی بری طرح متاثر ہونے کے احتمال کو خارج ازمکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

 

 

قارئین کرام کو یہ بات بھی ذہن نشین کرنی چاہئیے کہ خسرہ اور روبیلا کے حفاظتی ٹیکے سے بچوں کی قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے جسکی وجہ سے دیگر عام بیماریوں سے بھی بچہ محفوظ رہ سکتا ہے۔

 

اس حوالے سے حکومت گلگت-بلتستان نے مہم کو کامیاب بنانے کیلئے تمام تر انتظامات کی ہے اور محکمہ صحت گلگت بلتستان اس مہم کو بھرپور انداز میں چلارہی ہے۔

 

ضلع گلگت میں ایک لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگ جائیں گے ضلع گلگت میں اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے محکمہ صحت نے 116 موبائل ٹیمیں،31 فسکڈ سینٹرز اور 33 سپروائزرز تشکیل دے دیئے ہیں۔مہم کے دوران گلگت بھر کے 15 سال تک کے بچوں کا ڈیٹا تمام سکولوں سے لیا جائیگا اور جو بچے سکول نہیں جاتے ہیں ان کا ڈیٹا لیڈی ہیلتھ ورکرز سے لیا جارہا ہے۔

 

صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں تمام اضلاع میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کیلئے ڈی ایچ اوز کو تمام تر وسائل بروئے کار لانے پر زور دیا گیا ہے اور سرکاری و پرائیویٹ سکولوں کے پرنسپلز کو بھی ہدایات جاری کردئیے گئے ہیں کہ وہ خسرہ اور روبیلا جیسی موذی بیماری سے بچاؤ کی ویکسین کے حوالے سے محکمہ صحت کے عملے کے ساتھ بھرپور معاونت رکھیں۔

 

اس قومی مہم کے دوران گلگت-بلتستان کے تقریباً 6 لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے،اس حوالے سے صوبائی حکومت کی جانب سے تمام مکاتب فکر کے علماء،مساجد کے خطباء صاحبان اور سیاسی و سماجی شخصیات سے اس مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے اور عوام الناس سے بھی محکمہ صحت کی طرف سے تشکیل کردہ ٹیموں سے تعاون کرکے موذی امراض سے اپنے بچوں کو محفوظ رہنے پر زور دیا گیا ہے۔

 

 

دیامر میں ایک لاکھ 19 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین کے مرحلے سے گزارا جائے گا۔سکردو میں اس بیماری سے بچاؤ اور آگہی ورکشاپس و سیمینارز کا انعقاد ہوچکا ہے،اس حوالے سے سکردو میں اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے 31 فرسٹ لیول سپروائزرز،14 تحصیل سپروائزرز نگرانی کررہے ہیں جو بروقت رپورٹنگ کے عمل کو یقینی بنائیں گے۔سکردو ہی میں 110 آؤٹ رینج ٹیمیں اور 28 فکسڈ ٹیمیں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

یہ تصحیک کسی فرد کی نہیں یہ شخص باشندگان استورتح کی تضحیک فخریہ انداز میں کر رہا ہے مجھے حیرت ہیکہ حافظ حفیظ الرحمان صاحب جیسے باوقار سیاست دان کی جماعت میں اسطرح کے بھی کردار موجود ہے

ضلع استور میں 38 ہزار 6 سو سے زائد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔عوام الناس کو ان موذی امراض کو کبھی ہلکا نہیں لینا چاہئے کیونکہ کسی بھی معاشرے میں بچے ہی کل کے معمار ہوتے ہیں لہٰذا صوبائی حکومت کی جانب سے جاری اس مہم میں بھرپور حصہ لیا جائے اور اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے میں لیل ولعت سے کام نہیں لینا چائیے۔

 

 

گلگت ۔شہر کے مختلف مارکیٹوں پر مجسٹر یٹس چھاپے لگا کر پرائس کنٹرول لسٹ پر عملدرآمد کو یقینی ڈپٹی کمشنر / ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گلگت کیپٹن (ر) اُسامہ مجید چیمہ

صوبائی محکمہ صحت کے مطابق روبیلا اور خسرہ سے بچاؤ کے حوالے سے جاری قومی مہم ایک دفعہ ہوگی اس کے بعد ہر سال بچوں کو دیگر حفاظتی ٹیکہ جات جو پیدائش کے بعد وقتاً فوقتاً لگائے جاتے ہیں اس وقت ہی لگائے جائیں گے۔بچے میں یہ ویکسین ایک دفعہ لگنے کے بعد دوبارہ لگوانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

 

 

طبی ماہرین یہاں یہ بھی شعور و آگہی دیتے ہیں کہ بچے کو جب بخار ہو جائے تو اس کو مزید گرم نہ رکھا جائے بلکہ اس کو ٹھنڈا رکھنے کی ترکیبات اپنائیں۔

 

 

بچے کو خسرہ اور روبیلا ہونے کی صورت میں مزید گرم رکھنے سے جسم کی گرمی دماغ تک پہنچ سکتی ہے جو دماغی نشوونما پر اثرانداز ہونے کا احتمال بڑھ سکتا ہے۔
محکمہ صحت گلگت بلتستان کی جانب سے تشکیل کردہ ٹیمیں تمام اضلاع میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں اور مہم مکمل طور پر کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

 

 

 

 

 

شئیر کریں

گلگت ۔ حکومت گلگت-بلتستان کی جانب سے خطے کے تمام اضلاع میں خسرہ اور روبیلا کی بیماری سے بچاؤ کی قومی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے۔یہ مہم 12 روزہ ہے جو کہ 15 نومبر سے 27 نومبر تک جاری رہے گی۔” ایک تبصرہ

  1. سلام مسنون، محترم منیر جوہر بھائی
    میں پیدائشی رائٹر ہوں، میرے کچھ مضامین ur.wikinews.org پر موجود ہیں اس ویب کی کو ڈنگ بھی میں نے کی ہے، آئی ٹی سے بھی میرا کچھ تعلق ہے، آپ کی ویب سائٹ کے لیے کیا میں کچھ لکھ سکتا ہوں، اور اس کا طریقہ کیا ہے
    والسلام
    واٹس ایپ +923137285795

اپنا تبصرہ بھیجیں