کرونا واٸیرس


گلگت ۔الطاف کمیل: نمائندہ خصوصی

الطاف کمیل نماٸندہ خصوصی
الطاف کمیل نماٸندہ خصوصی


محکمہ تعلیم سکردو سرحدی تحصیل گلتری کے طلباء کے مستقبل سے متعلق لاپرواہ ۔ کورونا اور سخت موسمی حالات کا بہانہ بنا کر طلبا کو حصول تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رکھ کر غفلت کی نیند سو رہا ہے

سرحدی تحصیل کے طلباء اور انکے والدین سراپا احتجاج ہیں جنھوں نے محکمہ تعلیم اور پاک فوج سے اسکولز بروقت کھولنے کا مطالبہ کیا۔ اور اساتیذ کو جو سکردو گلگت میں مقیم ہیں بزریعہ ہیلی کاپٹرگلتری کے متعلقہ اسٹیشنز تک ترجیہی بنیادوں پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔


انکا کہنا ہے گلتری تحصیل کی محرومیوں کا ازالہ نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے سے ہی ممکن ہے۔ مگر محکمہ تعلیم کے پاس اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل موجود نہیں۔

علاقہ گلتری حکومتی عدم توجہی اور مسلسل محرومیوں کے سبب دیگر علاقوں کی نسبت پسماندہ ترین علاقہ ہے جہاں آج بھی لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اس علاقے سے حکومتیں اور سیاسی نمائندے سوتیلی ماں کا سا سلوک روا رکھتے آئے ہیں

مزید پڑھیے گا ۔ سپریم اپلیٹ کورٹ کا شاندار فیصلہ دوران کرونا ستّر فیصد فیس واپس کرنے کا حکم

کورونا وائرس کی دوسری لہر کے بعد وفاقی حکومت نے تمام تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار اوپن کر نے کا فیصلہ کیاہے۔ لیکن علامہ گلتری کے اسکول اب تک بند ہیں اسکول بند ہوئے تقریباً ایک سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکاہے صرف گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں ایک مہینے کے لیے اوپن ہوئے تھے باقی گزشتہ سال سے مکمل بند ہیں۔پھر بھی محکمہ تعلیم کے ذمہ داران خرگوش کی نیند سوے ہوئے ہیں۔اس ضمن میں علاقہ گلتری کی عوام حکومت وقت اور پاک آرمی سے پُر زور اپیل کرتی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر اسکولوں کو کھول دے جائیں،تاکہ علاقہ گلتری کے طلباء بھی تعلیم سے محروم نہ رہیں۔

یہ حبر بھی پڑھیے ۔ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات کا نہ ماننا جلتی پے تیل چھٹکنا

شئیر کریں

2 تبصرے “گلگت ۔ محکمہ تعلیم سکردو سرحدی تحصیل گلتری کے طلباء کے مستقبل سے متعلق لاپرواہ ۔ کورونا اور سخت موسمی حالات کا بہانہ بنا کر طلبا کو حصول تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رکھ کر غفلت کی نیند سو رہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں