ہنزہ ۔اسوہ سکول گنش کے طالب علموں نے انٹر پرنیور چلنج پاکستان جیت لیا
انٹر پرنیور چیلنج پاکستانی جیتنے والے طالب علم کو تین ہزار پاونڈ کا چیک دیا گیا ۔ اس موقع پر والدین کے ساتھ فوٹو

ہنزہ اسوہ پبلک سکول اینڈ کالج گنش ہنزہ میں سیڈ پاکستان اور پرینس ٹرسٹ انٹرنیشنل کی جانب سے انٹر پرائز چلنج پاکستان جیتنے والی ٹیم کے اعزاز میں تقریب تقسیم انعامات کا انعقاد کیا گیا۔ اس مقابلے میں پورے پاکستان سے کل 56 تعلیمی اداروں نے حصہ لیا تھا ۔

مزید پڑھیے ۔
ہنزہ۔ ششپر گلیشر پر مننے والا جیھل کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے ۔ محکمہ موسمیات پاکستان نے ہاٸی الرٹ جاری کردی ہے ۔

تقریب میں سیاسی و سماجی شخصیات، ہنزہ پریس کلب کے صدر علی احمد، مختلف کالجوں کے پرنسپلز کے علاوہ طلبہ کے والدین نے بھی شرکت کی۔ سیڈ پاکستان اور پرینس ٹرسٹ انٹرنیشنل کی جانب سے چیلنج جیتنے والی ٹیم کو تین ہزار یورو کا چک، شیلڈ اور تمغے دیے گئے۔

شرکائے تقریب سے ڈائریکٹر اسوہ ایجوکیشن سسٹم گلگت ریجن شوکت علی شہاب، اسوہ پبلک سکول اینڈ کالج گنش کیمپس کے پرنسپل مرتضیٰ کیانی اور نمبردار آمر خان نے خطاب کیا۔ ڈائریکٹر شوکت علی شہاب نے کہا کہ ہنزہ جیسے دور دراز علاقے میں جہاں انٹرنیٹ اور بجلی کی بہتر سہولیات نہ ھونے کے باوجود، یخبستہ سردی میں سکول کے کمپیوٹر لیب میں بیٹھ کے محنت کرنا اور پورے پاکستان لیول پہ مقابلہ جیتنا بہت بڑا اعزاز ھے۔

انٹر پرنیور شیپ جیتنے والے اسوہ سکول گنش کے طالب علم

اس کامیابی میں ان والدین کا بھی ہاتھ ھے جنہوں نے بچوں کو اس پروجیکٹ پہ کام کرنے کے لیے وقت فراہم کیا۔ اگر حکومت نے بجلی اور انٹرنیٹ کی اچھی سہولیات فراہم کی تو ہمارے بچے ملکی سطح پہ نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح کے مقابلے جیت کے پورے ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔

ہمارے بچوں نے ہنزہ جیسے دور دراز علاقہ جہاں جہاں پینے کا پانی تک میسر نہیں ایسے علاقے میں بیٹھ کے پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھے ہوئے بچوں کو ہرا کے یہ اعزاز اپنے نام کرلیا جو کہ ہنزہ اور پورے گلگت بلتستان کا سر فخر سے بلند کیا ھے۔ بچوں کے والدین نے سیڈ پاکستان اور پرینس ٹرسٹ انٹرنیشنل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچوں کو اس مقابلے کا حصہ بنا کے اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کیا۔

شئیر کریں

ہنزہ ۔ سیڈ پاکستان اور پرینس ٹرسٹ انٹرنیشنل کی جانب سےانٹر پرنیور چیلنج پاکستان جیتنے والی ٹیم کو تین ہزار یورو کا چک، شیلڈ اور تمغے دیے گئے۔” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں