سوست گوجال.

ہنزہ چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز،ہنزہ امپورٹ اینڈ اایکسپورٹر ایسوسی ایشن ، ہنزہ بیگج ایسوسی ایشن ،خنجراب بارڈر ٹریڈ ایسوسی ایشن اور سوست بازار ایسوسی ایشن کے نمایندے ریحان شاہ ،رضوان کریم ، الفت کریم ،فرمان علی تاجک ، گلزار اور علی نظر نے پاک چین کے تجارتی مقام سوست میں مشترکہ طور پر ایک میڈیا بریفنگ دی۔بریفنگ میں ان مختلف تنظمیوں نے کہا کہ کوڈ 19کے بین الاقوامی وباءکے باعث پاک چین تجارت سے وابستہ افراد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہےاس عالمی وبا کے باعث تاجر کمیونٹی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے جبکہ سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا معاشی قتل ہوا ہے ایسے میںحکومتی جبری ، بارڈر بندش سیاحتی بندش اور چھوٹے دکانداروں کی جبری بندش کے بعد حالات نے انتہائی تشوک ناک صورت حال اختیار کر گیا ہے اس ثنا میں حکومت کی جانب سے انتہائی غیر منصفانہ طور پر پاک چین بارڈرکو نگران حکومت میں دو وزراءجو کہ بھاری ادائیگی کے بعد وزیر بنے ہیں پانچ تاجروں کو نوازنے کے لئے پاک چین بارڈر کو چند مفاد پرستوں کے لئے کھول دیا جس کی وجہ سے ہزاروں سیاحوں کی علاقے پر جبری پابندیاں لگا دی گئی ہے ۔ پابندیوں کی وجہ سے سیاحوں سمیت ، پورے علاقے، ہو ٹلز اور دکانداروں کا معاشی قتل وہ رہا ہے۔بریفنگ میں کہا کہ ہنزہ گوجال بارڈر کمیونٹی پاک چین دوستی کے بانی اور موجب ہے اور بارڈر کمیونٹی کی وجہ سے ہی یہ بارڈر پاکستان کے لئے لائف لائن کی حیثیت سے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے سی پیک جو مملکت خدادادکے لئے گیم چینجربن چکا ہے اور یہ علاقے اور یہاں کے باسی اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم سی پیک کے پاسبان کی حیثیتسے تمام اہم ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں اور بین الااقومی سازشوں کے باوجودیہ علاقے کی مکین ناگفتہ حالات کے باوجود سی پیک کے دفاع پر معمور ہیں۔ایسے میں بارڈر کمیونٹی یہ حق رکھتے ہیں کہ پاک چین دوستی کے بانی اور سی پیک کے پاسداران ہو نے باوجودہمیں کیوں دیوار سے لگایا جارہا ہے؟جس کی وجہ سے ہمارے نوجوانوںمیں بے چینی اور اضطرابکی کفیت پایا جارہا ہے ۔اگر ہمارے تحفطات دور نہیں کئے گئے تو عوامی جہوریہ چین کی خنجراب بارڈر کے حوالے سے پالیسی بارڈر کمیونٹی کے لئے تشویش کا باعث بن رہا ہے لہذاہم ریاستی اداروں کے ذریعے پاکستان میں چینی حکام سے اس حوالے سے اپنے تحفظات ارسال کرینگے۔ایسے مشکل حالات سے دو چار تمام تاجر برادری حکومت پاکستان بالخصوص وزیر اعظم پاکستان ، آرمی چیف اور فورس کمانڈر سے اپیل کرتے ہیںکہ پاکستان چین بارڈر کو معمول کے مطابق دو طرفہ تجارت کے لئے ایس او پی کے تحت کھولا جائے اور 30دسمبر تک اس میں توسیع دیا جائے ۔خنجراب ٹاپ تک سیاحوں کو رسائی دی جائے اور پابندی فوری طور پر ہٹایا جائے ۔بارڈر کمیونٹی کو معاشی پیکج کا اعلان کیا جائے ۔ بارڈر کمیونٹی کے تمام کواپریٹوسوسایٹیز کے قرضے معاف کیا جائے ۔ اس موقع پر تنظیموں کے نمائندوں نے بتایا کہ بارڈر سے وابستہ ایسوسی ایشنز کی ایک گرینڈایکشن کمیٹی خنجراب ٹریڈ تشکیل دی گئی ہے جو کہ سوست کے تاجروں ، ہو ٹلز ایسوسی ایشن اور دکانداروں کے شانہ بشانہ اُن کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی بھر پور کوشش کر ئیگا۔

شئیر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں